11 نومبر 2013 - 20:30
عاشورا کے آداب و اعمال؛ فقہ عاشورا

شیعہ نے دوسرے معاشروں سے کہیں زیادہ افکار اور جذبات کو اکٹھا کرلیا ہے/ یہ قوم جانفشانی کے وقت اپنے پورے احساس پوری آگہی اور ہوشیار عقل کے ساتھ جام شہادت میں نوش کرتی ہے/ ہماری فکر ہمارے جذبے کی خدمت میں اور ہمارا جذبہ ہماری فکر کی خدمت میں ہے اور یہی ہے عاشورا کا روشن پیغام۔

فکر اور احساس انسانی حیات کے دو دو بنیادی عناصر ہیں۔ فکر کے پھئے حرکت کا سبب بنتے ہیں اور جذبات و احساسات کی کی نسیم حرکت سے آنے والی حرارت اور فرسودگی کا ازالہ کرتی ہے۔ اگر افکار کے محکم و متقن اصول اپنی تمام تر استواری اور استحکام کے باوجود، پاک احساسات کی فضا میں سانس نہ لیں تو کبھی بھی کھِلنے اور شکفتہ ہونے کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکیں گے؛ فکر کے بغیر جذبہ و احساس گذرنے والی ہوا ہے جو شاید انسان کے چہرے کو تھپکی دے لیکن بہت زود گذرتی ہے اور انسان کو افکار کے خلا میں چھوڑ دیتی ہے۔ بعض لوگ فکر کو اہمیت دیتے ہیں اور فکر ہی کی روشنی میں انسانی کی تعریف کرتے ہیں اور بعض دوسرے اپنا دل احساس اور جذبے کے سپرد کرتے ہیں اور احساس کو ہی انسان کی تعریف و تعارف کی بنیاد سمجھتے ہیں جبکہ بعض لوگ دونوں کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن تجربے کے ترازو پر کبھی بھی تعادل و توازن تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ شیعہ نے دوسرے معاشروں سے کہیں زیادہ افکار اور جذبات کو اکٹھا کرلیا ہے۔ یہ قوم جانفشانی کے وقت اپنے پورے احساس پوری آگہی اور ہوشیار عقل کے ساتھ جام شہادت میں نوش کرتی ہے۔ یقینی امر ہے کہ یہ تعادل اور توازن ہمارے لئے مغرب کا تحفہ نہیں ہے کیونکہ اہل مغرب بےمقصدیت کے بھنور میں غرق ہونے کا اعتراف کررہے ہیں۔ شیعہ کے پاس جو کچھ بھی ہے فکر سے لے کر حماسوں اور کارناموں تک، سب حسین(ع) سے ہے۔ ہم نے عاشورا سے حیات پائی ہے۔ عاشورا ہماری تاریخ کا دھڑکنے والا نبض ہے۔ اگر ہم نے ایساس اور عقل کے رابطے کا بہتر ادراک کیا ہے اور ان کے درمیان معجزانہ پیوند برقرار کیا ہے اس لئے کہ ہم عاشورا کے صریح پیغامات کے ساتھ صدیاں جئے ہیں اور حماسہ حسینی میں صدیاں بالیدگی کی مشق کرتے رہے ہیں۔ ایران کا اسلامی انقلاب جذبات کے کالبد میں عقل و فکر کی موجزنی کا دوسرا نام ہی تو ہے۔ لوگ اپنی جان سے موت کی پذیرائی کرتے تھے تا کہ ان کی فکر کا روشن راستہ باقی رہے۔ صرف ایرانی ہی نہ تھے جنہوں نے استکبار اور استعمار کا کڑوا گھونٹ پی لیا تھا۔ اگر ہم نہ کہیں کہ جنوب کی نصف دنیا نے یہ کڑواہٹ اپنے تمام وجود سے محسوس کیا تھا، تو یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پوری امت مسلمہ نے اپنی تاریخ کا ایک حصہ مغرب کے زیر تسلط گذارا ہے یا حتی اب بھی گذار رہے ہیں اور قومیں ان ایام اور ان صدیوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں لیکن حکام ابھی انہیں یہ کڑواہٹ چکھاتے رہنے پر اصرار کررہے ہیں۔ اسلامی انقلاب ایران سے کیوں اٹھا اور جب کامیاب ہوا تو دوسرے انقلابات کی طرح گلا سڑا کیوں نہیں؛ اور تاریخ اختتام رکھنے والے انقلابات کی طرح ماضی کا حصہ کیوں نہیں بنا؟ اور کیوں یہ انقلاب ہر روز نئے دروازے کھول رہا ہے؟ اس سوال کا جواب ذہن اور دل یا عقلی حماسوں اور حماسی عقلیت کے پیوند اور رابطے میں ڈھونڈنا چاہئے اور یہ وہ رابطہ اور پیوند ہے جو ایرانی قوم کے دل میں عاشورا کی مسیحائی نے ‏بٹھا دیا ہے۔ ہم عاشورا کے بلاواسطہ مخاطَبین ہیں۔ عاشورا کے پیغامات ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ ہماری فکر ہمارے جذبے کی خدمت میں اور ہمارا جذبہ ہماری فکر کی خدمت میں ہے اور یہی ہے عاشورا کا روشن پیغام۔ کہاں جذبے اور عقل کی سازگاری کا اس طرح مشاہدہ کیا جاسکتا ہے؟ کہاں فکر کی نہر رواں میں جذبے کا جوش اس طرح دیکھا جاسکتا ہے؟ عاشورا فقہ کی نگاہ میں فقہ احکام کا مجموعہ ہے۔ کہے اور ان کہے پیغامات پر مشتمل ہے۔ کبھی ہدف تک پہنچنے کی بات کرتی ہے اور کبھی بغیر کچھ کہے ہدف کو تاریخ کے اوراق میں تلاش کرتی ہے۔ عاشورا ایک طوفان ہے جو اٹھا اور اپنے عصر کے بحر کو درہم برہم کیا لیکن جو چیز اس طوفان کی صداؤں کو معاشروں کے کان میں آہستگی سے بیان کرتی ہے وہ فقہ ہی ہے۔ فقہ عاشورا کی طرف ہماری نگاہوں کو ابدیت بخشتی ہے اور ہمارے دل کے سوز و گداز کو دائمی بقاء عطا کرتی ہے۔ فقہ عاشورا اس عظیم واقعے کے بہت سے زاویوں کو واضح کردیتی ہے۔ خاندانی تعلقات، ایثار کا عروج، اپنے اندر خدا کی راہ میں فنا ہونے کے لمحات اور رمز و راز بھری نگاہیں۔ آج فقہ دنیا کی طرف ہماری نگاہ کا دریچہ ہے۔ اگر فقہ نہ ہوتی تو عاشورا جذبات کو ابھارتی اور مشتعل کرتی اور افکار کو بھی سیراب کرتی مگر کیا پائیدار بھی رہتی؟ اور کیا تاریخ کی پر نشیب و فراز شاہراہ پر جذبات کی گہرائی اور فکر کے اعماق کو بھی فتح کرسکتی؟ مختصر یہ کہ فقہ نے عاشورا کے نور کی تابش کو تاریخ کی وسعتوں تک پہنچایا اور عاشورائی فقہ وہ سانچہ ہے جو عاشورا کے سلسلے میں ہمارے تصورات کو تاریخ کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ اور آج،آج بھی عاشورائی فقہ اس عظیم کارنامے کے دور تر آفاق کو ہمارے سامنے روشن اور واضح کرتی ہے۔ عاشورائیوں نے بہرصورت فقہ عاشورا سے اسباق اور دروس سیکھ لئے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ عاشورا کی فقہ سے نا آشنا ہیں۔ کیونکہ فقہ زمانے کے ساتھ بالیدگی اور شگفتگی پاتی ہے اور عاشورائی فقہ ہماری آج کی ضروریات کو عاشورا کے دل سے برآمد کرکے پوری کرتی ہے۔ جو کچھ یہاں پیش خدمت ہے عمومی تصورات سے مطابقت رکھتا ہے ورنہ اس کا تخصصی اور ماہرانہ مباحث سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔ فقہ عاشورا کی بحث ایک بڑی بحث ہے جس کے لئے زيادہ تحقیق کی ضرورت ہے اور یقیناً ان نظریات پر بحث بہت زیادہ مفید اور کار آمد ہوگی۔ 1۔ زيارات حسینیامام حسین(ع) کے نام پر بہت سی زیارتیں وارد ہوئی ہیں۔ یہ زیارات خاص وقت کے لئے ہیں اور ان کے تنوع نے خالص عرفانی فرصتوں اور مواقع کو ان افکار کی توسیع کے لئے مقرر کیا ہے جو دینداری اور حق طلبی کا محور ہیں۔ شب ہائے قدر سے ـ جو کہ عالم وجود کے لئے عرفان الہی تک پہنچنے کے بے مثل مواقع ہیں ـ سے لے کر کمترین زمانی اور وقتی بہانوں تک، کو سردار کربلا کی زیارتوں سے مزین کیا گیا ہے۔ دین ہر طرف اور ہر روش سے ایسے لمحوں کی تلاش میں رہتا ہے تا کہ زمان کی اتہاہ سے دینداروں کی روح میں رسوخ کرے اور ان کے خون میں حسینی افکار کو جاری و ساری کرے۔ یہاں ہم جو فہرست پیش کررہے ہیں یہ ان مواقع اور اوقات کی فہرست ہے جن میں سے ہر ایک نے ایک خاص زیارت کو اپنے لئے مختصر کر رکھا ہے۔ ان کی تفصیل کو آپ مفاتیح الجنان یا دعاؤں کی دوسری کتابوں میں پاسکتے ہیں: ۔ یکم رجب۔ ۔ پندرہ رجب۔ ۔ پندرہ شعبان۔ ۔ یکم رمضان۔ ۔ تئیس رمضان کی شب (ليلۃ القدر) ۔ عید سعید فطر۔ ۔ عید سعید ضحی۔ ۔ عرفہ کی شب۔ ۔ روز عرفہ۔ ۔ روز عاشورا۔ ۔ روز اربعين۔ اور یہ زیارت ان متعدد اور متنوع زیارت کے علاوہ ہیں جو حرم حسینی(ع) کے زائر کے لئے وارد ہوئی ہیں۔ 2۔ قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت جب تاریخ کے پروں پر بیٹھ کر گذرِ زمانہ کا نظارہ دیکھو تم تمہیں دو واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں بہت سے پیوند اور شباہتیں پائی جاتی ہیں۔ جن کا جائزہ لینے کے لئے مستقل تحقیق کی ضرورت ہے؛ ان دو واقعات کا تعلق کعبہ اور فرزندان کربلا سے ہے۔ ان دو واقعات کو غائرانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو گویا دونوں کا منصوبہ ایک ہے ہے۔ دونوں فکر کو احساس کی زبان سے تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔ مسجد الحرام کا احاطہ بہت سی علامتی جلوہ گاہوں اور بہت سے یادوں سے بھرا ہوا ہے۔ مروہ اور صفا سے صبر و استقامت کا ایک روحانی منظر انسان کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوجاتا ہے۔ زمزم اپنی بات کرتا ہے اور حجرالاسود کا اپنا پیغام ہے۔ حرم حسینی کا گوشہ گوشہ بھی زائرین کے ساتھ بات چیت کرتا ہے، خیام کا مقام، تل زینبیہ سے خیام تک کا فاصلہ، علقمہ، قتلگاہ وغیرہ سب کے سب استقامت اور مظلومیت کے مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ کعبہ اور کربلا اور ابراہیم(ع) اور حسین(ع) کے واقعات کی وسعت اور بقاء کو دونوں واقعات کے علامتی مناسک اور اعمال میں ڈھونڈنا پڑے گا۔ حج کے اعمال ابراہیم کے توحیدی ماجرا کو اپنے خاص ڈھنگ سے از سر نو تخلیق کرتے ہیں اور حرم حسینی کے مناسک و اعمال بھی اپنی حسینی خصوصیات و پیغامات کو اپنے زائرین کے لئے مکرر در مکرر تخلیق کرتے ہیں۔ ائمہ معصومین(ع) اپنے وصایا اور نصائح میں امام حسین(ع) کی زیارت پر کم مثل اور اپنی نوعیت کے لحاظ سے بے مثل اصرار کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض کو تو وجوب تک کا شبہہ ہوا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ امام حسین(ع) کی زیارت سال میں ایک مرتبہ واجب ہے۔ بعض احادیث میں اس زیارت کو ایک ہزار قبول حجوں اور ایک ہزار قبول عمروں کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ (1) یہاں ہم حرم حسینی کے بعض مناسک و اعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛ جن میں سے بعض زیارت بیت اللہ کے مناسک سے شباہت رکھتے ہیں۔ 1۔ مرقد حسینی کی طرف پائے پیادہ سفر کرنا مکہ کی طرف پیدل چلنا فقہ حج کی عظیم تعلیمات میں سے ہے۔ مناسک حسینی میں بھی کربلا کے مرقد انور کی طرف زائرین کے پائے پیادہ سفر کا تذکرہ ہے (2) کیونکہ خداوند متعال نے چاہا ہے کہ یہ دونوں شہر (مکہ اور کربلا) مؤمنین کے دلوں کو ان کی طرف متوجہ فرماتا رہے۔ (3) قلبوں کا پرندہ کانٹوں اور راستے کی تھکاوٹ کو جان کی قیمت ادا کرکے خریدتا ہے۔ 2۔ سرمہ نہ لگانا۔  3۔ فرات کی طرف تکبیر (اللہ اکبر) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ) کے ذکر کے ساتھ اور غسل اور وضو کرنا۔ 4۔ پاکیزہ لباس زیب تن کرنا۔ 5۔ جدال اور نزاع سے اجتناب کرنا۔ 6۔ قسم نہ اٹھانا۔ 7۔ حرم کی طرف ننگے پاؤں چلنا۔ 8۔ انکسار اور تواضع کے اور شکستہ دل کے ساتھ راہ چلنا۔ 9۔ کم بولنا۔ 10۔ حرم کے زائرین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا۔ 11۔ لبوں پر ذکر درود و صلوات کا ہونا۔ 12۔ حرم کے مشرقی دروازے سے داخل ہونا۔ 13۔ عاشورا کے دن سقائی کرنا اور لوگوں کو پانی پلانا۔ 14۔ سادہ سی غذا تناول کرنا۔ 15۔ احادیث میں وارد ہونے والے سلام، زیارتیں اور نمازیں پڑھنا۔ کربلا کے لئے وارد ہونے والی زیارات انقلابی اور عرفانی افکار اور مفاہیم سے بار ور ہیں۔ ائمہ(ع) نے زائرین کو ہدایت کی ہے کہ امام کی معرفت کاملہ کے ساتھ زيارت پڑھیں تا کہ احساسات اور افکار ساتھ ساتھ بالیدگی کی منزل طے کریں۔ 16۔ حاجتیں مانگنا۔ 17۔ مظلوم کا ظالم پر نفرین کرنا جس کے سلسلے میں ایک دعائے مخصوصہ بھی وارد ہوئی ہے۔ (4) 3۔ تربت حسینی پتھر اور مٹی کی اپنی حیثیت مقدس نہيں ہے۔ مگر عنایت الہی کی کیمیا خاک و سنگ کو ایک اعلی تشخص تک پہنچا دیتی ہے اور انہیں اعلی ترین شعائر الہی میں جگہ دیتی ہے۔ حجر الاسود ایک سیاہ رنگ کا پتھر ہے جس کی روحانی و معنوی عظمت نے عالم اور آدم کو اپنا شیدائی بنا لیا ہے۔ تربتی حسینی نے بھی تاریخ کو اپنے نظارے پر بٹھا دیا ہے۔ وہ پتھر لبوں کا بوسہ لینے کے لئے بلاتا ہے اور یہ مٹی جبینوں کو سجدے کے لئے۔ (5) شیعہ نماز کے سجدے میں تربت حسینی پر جبین رکھ کر اپنا دل ایسے مرد کے خالق کے سپرد کرتا ہے جس نے ایک توحیدی حماسہ اور کارنامہ سرانجام دیا۔ ہاں! اللہ کا راستہ حسین(ع) کے محلے سے گذرتا ہے اور عرفان الہی مدرسۂ حسین(ع) سے درس لے کر حاصل ہوتا ہے۔ تربت حسینی کے ـ سجدے کے علاوہ ـ دوسرے احکام بھی ہیں؛ منجملہ: 1۔ اولاد کی پیدائش کے بعد تربت حسینی کی تھوڑی سی مقدار بچے کے منہ میں رکھنا۔